خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے سفارتی کردار اور معاشی پالیسیوں کو عالمی سطح پر نمایاں پذیرائی مل رہی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت مشکل علاقائی اور عالمی چیلنجز کے باوجود استحکام کی جانب گامزن ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے بلومبرگ کے مطابق پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال کرنے میں اہم پیشرفت کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روپے کی قدر تقریباً 280 روپے فی ڈالر کے قریب مستحکم رہی، جبکہ کے ایس ای 100 انڈیکس میں سال بھر کے دوران صرف 1.3 فیصد معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
معاشی استحکام کی بڑی وجوہات میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ تعاون، خلیجی ممالک سے مضبوط مالی روابط اور دوست ممالک کی معاونت شامل بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے ذخائر اور 5 ارب ڈالر کی قرض سہولت میں توسیع کی، جبکہ چین نے پاکستان کے پہلے “پانڈا بانڈ” کے لیے 257 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔
بلومبرگ کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، خصوصاً گوادر بندرگاہ کی اسٹریٹجک پوزیشن، اسے خطے میں ایک ابھرتے ہوئے لاجسٹکس اور تجارتی مرکز کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔
