نور المالکی کا وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ سے دستبردار ہونے سے انکار، امریکی دباؤ مسترد
عراق کے سابق وزیر اعظم نور المالکی نے وزارتِ عظمیٰ کی امیدواریت سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے اور یہ فیصلہ عراقی عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے رہنما کا انتخاب کریں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے نور المالکی نے کہا کہ کسی بھی ملک کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ عراق کے سیاسی فیصلوں میں مداخلت کرے یا یہ طے کرے کہ کون وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار بنے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مبینہ دھمکیوں کو عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
مالکی کو عراق میں ایران کے قریب سمجھی جانے والی جماعتوں اور ملیشیاؤں کی حمایت حاصل ہونے کا تاثر پایا جاتا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ہتھیار صرف ریاستی اداروں کے پاس رکھنے کے اصول کے حامی ہیں اور عراقی فوج ایک ہی کمانڈ کے تحت کام کرے گی۔ ان کے مطابق ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے کے لیے طاقت کے بجائے سیاسی مکالمہ ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ عراق میں موجود تمام سفارتی مشنز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور کسی بھی گروہ کو ان پر حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
نور المالکی 2006 سے 2014 تک دو مرتبہ عراق کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق کو امریکا کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کا ادراک ہے، تاہم یہ تعلقات خود مختاری کے اصول پر استوار ہونے چاہئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عراق ایک بار پھر علاقائی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں نئی حکومت کی تشکیل خطے کی سفارتی اور سیکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔