جنیوا میں امریکا۔ایران بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور آج، معاہدے کی امید اور فوجی کشیدگی برقرار

0

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں آج امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے جس کا مقصد دہائیوں پر محیط ایٹمی تنازع کا حل تلاش کرنا اور خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے اعلیٰ سفارتی وفد کے ہمراہ مذاکرات کے لیے جنیوا پہنچ چکے ہیں، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بات چیت کے حوالے سے محتاط امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات موجودہ “نہ جنگ نہ امن” کی کیفیت کو ختم کر سکتے ہیں۔ عراقچی نے اس مرحلے کو “تاریخی موقع” قرار دیتے ہوئے فوری اور منصفانہ معاہدے کی خواہش کا اظہار کیا، تاہم واضح کیا کہ ایران پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

امریکی جانب سے مذاکرات میں خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شریک ہوں گے، جب کہ ثالثی عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کریں گے۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا تھا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام مذاکرات میں شامل نہ ہونا ایک “بڑا مسئلہ” ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس الزام کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو مستقبل میں امریکا کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایک طرف سفارتی حل کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے تو دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ بھی کیا جا رہا ہے، جس سے ممکنہ علاقائی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر فوجی آپشن بھی زیر غور ہو سکتا ہے۔

واشنگٹن اور اس کے اتحادی ایران کے جوہری پروگرام کو ہتھیار سازی کی کوشش قرار دیتے ہیں، جب کہ تہران مسلسل اس کی تردید کرتے ہوئے اسے توانائی کے پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔ مذاکرات کے دوران رافیل گروسی کی موجودگی بھی متوقع ہے تاکہ تکنیکی پہلوؤں پر پیش رفت کی جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ دونوں فریقین معاہدے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں، لیکن افزودگی، میزائل پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے جیسے بنیادی اختلافات بدستور بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جس کے باعث مذاکرات کا نتیجہ غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.