ایران کا دوٹوک مؤقف: میزائل پروگرام اور علاقائی اتحادیوں پر بات چیت ناقابل قبول

0

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جوہری مذاکرات کے تناظر میں اس کے میزائل پروگرام اور خطے میں موجود اتحادیوں کو زیر بحث لانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ تہران نے واشنگٹن کو پیغام دیا ہے کہ معاہدے کی کامیابی کیلئے “حد سے زائد مطالبات” ترک کیے جائیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے مصری ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ مذاکرات میں کچھ معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے جبکہ بعض نکات پر اختلاف بدستور موجود ہے، تاہم بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ:

  • جوہری امور سے متعلق عملی اقدامات پر پیش رفت ہونی چاہیے
  • اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کو مذاکرات کا مرکزی محور بنایا جائے
  • کسی بھی غلط اندازے یا اضافی شرائط سے گریز کیا جائے

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ویانا میں مذاکرات کا نیا دور بھی متوقع ہے، جہاں فریقین باقی ماندہ اختلافات کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

مذاکرات کا بنیادی تنازع

ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ:

  • میزائل پروگرام اس کی دفاعی صلاحیت کا حصہ ہے
  • علاقائی اتحادی اس کی خارجہ پالیسی کا معاملہ ہیں
  • جوہری معاہدہ صرف جوہری سرگرمیوں اور پابندیوں کے خاتمے تک محدود ہونا چاہیے

دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی وسیع تر فریم ورک چاہتے ہیں جس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ پر بھی بات ہو۔

سفارتی پیش رفت یا تعطل؟

تجزیہ کاروں کے مطابق فریقین کے درمیان رابطے جاری رہنا مثبت اشارہ ہے، تاہم “حد سے زائد مطالبات” اور “معاہدے کے دائرہ کار” پر اختلافات اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔ ویانا مذاکرات کا آئندہ دور اس بات کا تعین کرے گا کہ فریقین کسی درمیانی راستے تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.