نئی دہلی:بھارت میں مودی حکومت کے انتخابات میں جیت پر عوام اور اپوزیشن کی جانب سے سخت سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے مودی سرکار پر انتخابی عمل میں منظم دھاندلی اور ووٹ چوری کے الزامات عائد کرتے ہوئے حکومت کے ’’جعلی چہرے‘‘ کو عوام کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
بھارتی عوام اب کھلے عام سڑکوں پر آ کر بی جے پی کی انتخابی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتخابات میں ’’عوام کسی اور کو ووٹ دیتے ہیں، لیکن نتیجہ مودی کے کھاتے میں چلا جاتا ہے‘‘۔ عوامی سطح پر یہ شکایات عام ہو چکی ہیں کہ ووٹر فہرستوں میں بے ضابطگیاں، ووٹوں کی گنتی میں گڑبڑ اور غیر شفاف طریقہ کار کے ذریعے بی جے پی کو زبردستی جتوایا جاتا ہے۔
راہول گاندھی نے بھارتی میڈیا کے سامنے مودی سرکار پر کھل کر تنقید کی، اور کہا کہ بی جے پی نے انتخابی نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ بھارتی عوام نے بھی راہول گاندھی کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کے معمولی امیدواروں کو بھی تین تین، چار چار لاکھ ووٹ کے فرق سے جتوایا جارہا ہے ، جبکہ زمینی سطح پر عوام نے کانگریس یا دیگر جماعتوں کو ووٹ دیے۔
عوامی رائے کے مطابق، یہ محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ زمینی حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کی جیت عوامی مینڈیٹ نہیں بلکہ منظم چالاکیوں اور ووٹ چوری کا نتیجہ ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ اب مودی حکومت کے جھوٹے دعوے، جعلی ہتھکنڈے اور انتخابی فراڈ ان کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں، اور وہ آئندہ ایسے کسی فریب کو قبول نہیں کریں گے۔
مودی سرکار کی انتخابی شفافیت پر بھارتی عوام کا عدم اعتماد
