امریکی حملوں کے بعد ایران کا فٹبال ورلڈ کپ سے دستبرداری کا عندیہ، فیفا صورتحال پر متحرک
تہران — امریکی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ سکیورٹی صورتحال کے باعث ایران نے آئندہ فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے ممکنہ دستبرداری کا عندیہ دے دیا ہے۔
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر کے مطابق موجودہ حالات میں ٹیم کا امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں مشترکہ طور پر ہونے والے عالمی ٹورنامنٹ میں شرکت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کی حفاظت اور سفری خدشات کے باعث حتمی فیصلہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
شیڈول کے مطابق ایران کو اپنے گروپ کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس میں میدان میں اترنا تھا، تاہم موجودہ جغرافیائی اور سیاسی تناؤ کے باعث اس میچ کے انعقاد پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
دوسری جانب عالمی فٹبال تنظیم فیفا نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام ٹیموں کی سکیورٹی ان کی اولین ترجیح ہے۔ فیفا حکام کے مطابق میزبان ممالک کے ساتھ مل کر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ٹورنامنٹ میں ایران کو گروپ جی میں بیلجیئم، نیوزی لینڈ اور مصر کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ اگر ایران اور امریکا اپنی اپنی گروپ پوزیشن میں دوسرے نمبر پر آتے تو 3 جولائی کو ڈیلاس میں دونوں ٹیموں کے درمیان ممکنہ مقابلہ بھی شیڈول تھا، جو اب غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی ممکنہ دستبرداری نہ صرف کھیلوں کے میدان میں بڑا دھچکا ہوگی بلکہ اس کے عالمی کھیلوں پر سیاسی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔