امریکی صحافی ٹکر کارلسن کا دعویٰ: قطر اور سعودی عرب میں مبینہ بم دھماکوں کی کوشش میں موساد ایجنٹس گرفتار
واشنگٹن – امریکی صحافی اور مبصر ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر اور سعودی عرب میں بم دھماکوں کی کوشش کے الزام میں موساد کے ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اپنے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کارلسن نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کے فیصلوں کے باعث امریکی شہری مارے جا رہے ہیں اور اسرائیل مبینہ طور پر امریکہ کے قریبی عرب اتحادیوں کے درمیان جان بوجھ کر افراتفری پھیلا رہا ہے۔
کارلسن نے کہا کہ امریکا کو اسرائیلی قیادت پر واضح کرنا ہوگا کہ وہ خطے میں یکطرفہ فیصلوں کی مجاز نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ نیتن یاہو پر تنقید کو یہود مخالفت نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ایک سربراہِ حکومت کی پالیسیوں پر اعتراض ہے، جو امریکا کے مفادات اور مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
سابق فاکس نیوز میزبان نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حکومت کو واضح پیغام دے کہ پالیسی سازی میں واشنگٹن کی ترجیحات کو مقدم رکھا جائے۔
دوسری جانب نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق کارلسن نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی مخالفت میں لابنگ کی تھی اور متعدد مواقع پر وائٹ ہاؤس میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقاتیں بھی کی تھیں تاکہ انہیں ایران پر حملے سے باز رکھا جا سکے۔
تاحال ان الزامات یا دعوؤں پر اسرائیلی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔