امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی قرارداد آج پیش ہوگی
امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں سے روکنے کے لیے امریکی سینیٹ میں آج ایک دو جماعتی قرارداد پیش کی جائے گی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ انتظامیہ کے اس اختیار کو محدود کرنا ہے کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع نہ کر سکے۔
سینیٹ میں اپوزیشن کی موقف
انٹیلی جنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چک شومر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کا جواز ہر گھنٹے بدل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی رجیم چینج کی بات کی جا رہی ہے، تو کبھی نیوکلیئر ہتھیار، کبھی میزائل، کبھی اپنا دفاع اور کبھی جارحیت۔ ان کے مطابق جواز کی بار بار تبدیلی یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔
دیگر سینیٹرز کا مؤقف
الزبتھ وارن نے اسے غیر قانونی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جھوٹ پر مبنی ہے اور جنگ ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔
اسی طرح ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکا اپنی زمینی فوج ممکنہ طور پر ایران بھیجنے والا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
مبصرین کے مطابق سینیٹ کی اس قرارداد کی منظوری یا ردعمل صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی پالیسی پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔