صوفیانہ کلام کے بے تاج بادشاہ استاد پٹھانے خان کی 26ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

صوفیانہ کلام کے بے تاج بادشاہ استاد پٹھانے خان کی 26ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

کوٹ ادو – پاکستان کے نامور لوک گلوکار اور صوفیانہ کلام کے بے تاج بادشاہ Pathanay Khan کی آج 26ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ موسیقی کے شائقین اور فن سے محبت رکھنے والے افراد انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

1926ء میں پنجاب کے شہر Kot Addu کی بستی تمبو والی میں پیدا ہونے والے استاد پٹھانے خان کا اصل نام غلام محمد تھا۔ وہ بنیادی طور پر لوک گلوکار تھے تاہم انہوں نے نیم کلاسیکی انداز میں کافی، غزل اور لوک گیت گا کر منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کی آواز میں درد اور روحانیت کا ایسا امتزاج تھا جو سننے والوں کے دلوں میں اتر جاتا تھا۔

استاد پٹھانے خان نے کئی دہائیوں تک اپنی آواز کا جادو جگایا اور صوفی شعرا کے کلام کو اپنے منفرد انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے Khawaja Ghulam Farid، Bulleh Shah اور Mehr Ali Shah سمیت متعدد صوفی شعرا کے عارفانہ کلام کو گایا جو بے حد مقبول ہوا۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے 1979ء میں انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا، جبکہ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے مجموعی طور پر 79 مختلف اعزازات حاصل کیے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم Zulfikar Ali Bhutto بھی استاد پٹھانے خان کی آواز کے مداحوں میں شامل تھے۔

ان کے مقبول صوفیانہ کلام میں “میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں” اور “الف اللہ چنبے دی بوٹی” خصوصی شہرت رکھتے ہیں، جنہوں نے انہیں دنیا بھر میں پہچان دلائی۔

عظیم لوک گلوکار استاد پٹھانے خان 9 مارچ 2000ء کو انتقال کر گئے تھے اور وہ اپنے آبائی شہر کوٹ ادو میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی آواز اور صوفیانہ کلام آج بھی موسیقی کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے