انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق، ننگرہار میں چار اور کابل میں دو ڈرون اسمبلی ورکشاپس کو کامیاب حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ ورکشاپس بھارتی اور اسرائیلی ساختہ پرزوں سے ڈرون تیار کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں افغانستان کی ڈرون اسمبلنگ کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور مقامی سطح پر ڈرون تیار کرنے کی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
حملوں کے بعد افغان حکام اور انٹیلیجنس اداروں نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ورکشاپس پر یہ حملے کس نے کیے اور ان کے ممکنہ اثرات کیا ہوں گے۔
اس اقدام کو علاقائی سلامتی اور ڈرون ٹیکنالوجی کی غیر قانونی تیاری کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
