عالمی میڈیا کا اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں صحافیوں کو آزادانہ رسائی کا مطالبہ

عالمی میڈیا کا اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں صحافیوں کو آزادانہ رسائی کا مطالبہ

دنیا کے بڑے خبر رساں اداروں اور میڈیا تنظیموں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی صحافیوں کو غزہ کی پٹی میں آزادانہ داخلے اور رپورٹنگ کی اجازت دے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مطالبے میں ایسوسی ایٹڈ پریس سمیت 20 سے زائد عالمی اداروں کے سربراہان شامل ہیں، جنہوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ زمینی حقائق تک براہِ راست رسائی صحافت کا بنیادی تقاضا ہے، جس سے رپورٹرز کو مختلف فریقین کے بیانات کی تصدیق اور عام شہریوں کی آواز دنیا تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔

یہ پابندی اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد عائد کی گئی تھی اور جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اب تک برقرار ہے۔ عالمی میڈیا اداروں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب امدادی کارکنوں کے لیے ایک طریقہ کار موجود ہے تو صحافیوں کو اسی نوعیت کی رسائی کیوں فراہم نہیں کی جا رہی۔

بیان میں بی بی سی، سی این این، روئٹرز، ڈی پی اے اور واشنگٹن پوسٹ سمیت متعدد اداروں کے ایڈیٹرز ان چیف نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے اس معاملے پر بات چیت کی کوششوں کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔

ابتدائی طور پر اسرائیلی حکام کا مؤقف تھا کہ یہ پابندی سیکیورٹی خدشات کے باعث لگائی گئی، کیونکہ غیر ملکی صحافیوں کی موجودگی سے فوجی مقامات کے افشا ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ تاہم میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد یہ جواز کمزور ہو چکا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے