امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو "شاندار کامیابی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی فوج، فضائیہ، بحری بیڑہ اور دفاعی نظام مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ اب نیٹو، جاپان، آسٹریلیا یا جنوبی کوریا کی مدد کے بغیر خطے میں کارروائی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر اپنے پیغام میں نیٹو کے بیشتر ممالک پر تنقید کی اور انہیں "ون وے ٹریفک” قرار دیا، اس تناظر میں کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے بھاری مالی بوجھ اٹھاتا ہے لیکن ضرورت کے وقت تعاون نہیں ملتا۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ نے ایرانی فضائیہ کا مکمل خاتمہ کر دیا اور آبنائے ہرمز یا خطے میں جاری دیگر کارروائیوں کے لیے کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ "تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر” تھا، مگر امریکی افواج نے ایران میں تمام اہداف کو نشانہ بنایا، تاہم جزیرہ خارک کی تیل کی تنصیبات کو محفوظ رکھا گیا۔ صدر نے کہا کہ مستقبل میں ایران میں ایک "شاندار انتظامیہ” ہوگی اور فوجی کارروائیاں بہت جلد ختم ہو جائیں گی۔
