Jordan کی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے Syria کے ساتھ شمالی سرحدی علاقے میں اسلحہ اور منشیات کے اسمگلروں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
فوجی بیان کے مطابق یہ کارروائی فجر کے وقت “روک تھام آپریشن” کے تحت کی گئی، جس میں ان مقامات کو ہدف بنایا گیا جو اسمگلنگ نیٹ ورکس کے زیرِ استعمال تھے۔ اردنی حکام کے مطابق ان ٹھکانوں کی نشاندہی مستند خفیہ معلومات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کی گئی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ اسمگلنگ گروہ سرحدی علاقوں میں فیکٹریاں، ورکشاپس اور گودام قائم کر کے وہاں سے منشیات اور اسلحہ اردن میں داخل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم کارروائی کے دوران ان تمام تنصیبات کو درستگی کے ساتھ تباہ کر دیا گیا۔
اردنی افواج نے دعویٰ کیا کہ آپریشن انتہائی منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا تاکہ اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو مؤثر طریقے سے نقصان پہنچایا جا سکے اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
فوج کے مطابق حالیہ مہینوں میں اسمگلنگ کی کوششوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور اسمگلر گروہ جدید طریقے استعمال کرتے ہوئے موسمی اور جغرافیائی حالات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس سے سیکیورٹی فورسز کو مسلسل چیلنج درپیش ہے۔
اگرچہ اردنی فوج نے باضابطہ طور پر شام کے اندر کارروائی کی تفصیلات محدود رکھیں، تاہم شامی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ حملے As-Suwayda Governorate کے مختلف علاقوں میں کیے گئے، جہاں مبینہ طور پر اسلحہ اور منشیات ذخیرہ کی جا رہی تھیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق کم از کم پانچ قصبوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں عرمان کا علاقہ بھی شامل ہے جہاں گودام موجود تھے۔
واضح رہے کہ اردن اور شام کے درمیان تقریباً 375 کلومیٹر طویل سرحد پر منشیات کی اسمگلنگ، خصوصاً Captagon گولیوں کی ترسیل، ایک بڑا سیکیورٹی مسئلہ بن چکی ہے۔ اردنی حکام کے مطابق فوج روزانہ کی بنیاد پر اسمگلنگ کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اردنی فوج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور داخلی سلامتی کے تحفظ کے لیے مستقبل میں بھی ایسے آپریشنز جاری رکھے جائیں گے۔
