امریکی نیوی سیلز کے سابق اہلکار Robert O’Neill نے پاکستان کے شہر Abbottabad میں 2011 میں کیے گئے خفیہ امریکی آپریشن کی آخری لمحات سے متعلق نئی تفصیلات بیان کی ہیں، جس میں القاعدہ کے سربراہ Osama bin Laden کو شہید کیا گیا تھا۔
ایک انٹرویو میں رابرٹ اونیل نے بتایا کہ اس مشن کا بنیادی مقصد September 11 attacks کے متاثرین کے لیے انصاف فراہم کرنا تھا۔ ان کے مطابق ٹیم کو آپریشن سے صرف تین ہفتے قبل آگاہ کیا گیا، جبکہ ہدف اور مقام کی تفصیلات آخری مراحل میں دی گئیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ آپریشن کی تیاری کے دوران بن لادن کی رہائش گاہ کا مکمل ماڈل بنا کر سخت تربیت کی گئی۔ منصوبے کے تحت خصوصی طور پر تبدیل شدہ Black Hawk helicopter کے ذریعے اہلکاروں کو کمپاؤنڈ میں اتارنا تھا، تاہم ابتدائی مرحلے میں ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا، جس سے آپریشن پیچیدہ ہو گیا۔
اونیل کے مطابق لینڈنگ کے بعد پورا مشن محض نو منٹ میں مکمل ہوا۔ فورسز نے شدید مزاحمت کے خدشے کے پیش نظر عمارت میں داخل ہو کر اوپری منزل تک پیش قدمی کی، جہاں بن لادن موجود تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے فوری طور پر بن لادن کو پہچانا اور اسے تین گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تاکہ کسی ممکنہ خودکش حملے یا مزاحمت کو روکا جا سکے۔
آپریشن کی کامیابی کا کوڈ ورڈ “جیرونیمو” تھا، جس کے بعد ٹیم نے کمپاؤنڈ سے اہم کمپیوٹرز اور انٹیلی جنس مواد حاصل کیا۔ تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کو بھی موقع پر دھماکے سے اڑا دیا گیا تاکہ حساس ٹیکنالوجی محفوظ رہے۔
اونیل نے بتایا کہ سب سے خطرناک مرحلہ واپسی کا تھا، جب ٹیم کو تقریباً 90 منٹ تک پاکستانی فضائی حدود میں ممکنہ ردعمل کا خدشہ رہا۔ بالآخر جب وہ Afghanistan کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تو اسے مشن کی حقیقی کامیابی کا لمحہ قرار دیا گیا۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ بن لادن کی لاش کو سمندر برد کر دیا گیا، جس سے ان کے بقول عوامی احتساب کا موقع محدود ہو گیا۔
واضح رہے کہ یہ کارروائی Operation Neptune Spear کے نام سے 2 مئی 2011 کو اس وقت کے امریکی صدر Barack Obama کے حکم پر انجام دی گئی تھی، جس نے القاعدہ کے سربراہ کی تقریباً ایک دہائی پر محیط تلاش کا خاتمہ کیا۔

