ایرانی ویمن فٹبال ٹیم کی کھلاڑیوں کی وطن واپسی، پناہ کی درخواستیں واپس

Iranian women's football team players return home, asylum applications withdrawn

ایران کی خواتین قومی فٹبال ٹیم کی پانچ کھلاڑیوں نے Australia میں سیاسی پناہ کی درخواستیں واپس لینے کے بعد ٹیم کے دیگر ارکان کے ہمراہ وطن واپسی اختیار کر لی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کھلاڑی Turkey کے راستے ایران میں داخل ہوئیں، جبکہ ان کا سفر Malaysia اور Oman سے گزرتا ہوا مکمل ہوا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں کھلاڑیوں کو ٹریک سوٹس میں سرحد عبور کرتے دیکھا گیا۔

ابتدائی طور پر کچھ کھلاڑیوں نے انسانی بنیادوں پر آسٹریلیا میں قیام کے لیے ویزا درخواستیں دی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق انہیں خدشہ تھا کہ AFC Women’s Asian Cup کے ایک میچ میں قومی ترانے کے دوران خاموش رہنے پر ایران واپسی پر ممکنہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایرانی تارکینِ وطن کے کارکنوں کے مطابق ان کھلاڑیوں میں زہرا سلطانی مشککار، مونا حمودی اور زہرا سربالی شامل تھیں، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے ٹیم کی کپتان Zahra Ghanbari کا نام بھی اس فہرست میں شامل کیا ہے۔ پانچویں کھلاڑی کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق صرف دو کھلاڑی، جنہیں آسٹریلیا میں پناہ دی گئی تھی، وہیں مقیم رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیم سے علیحدہ ہو گئی ہیں۔

یہ واقعہ کھیل اور سیاست کے باہمی تعلق اور بین الاقوامی سطح پر کھلاڑیوں کو درپیش چیلنجز کی ایک اور مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں سیاسی و سماجی دباؤ نمایاں ہو۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے