ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کی پالیسی اور کارروائیاں “ریاستی دہشت گردی” کے مترادف ہیں، جن کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی قانونی و سفارتی نظام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
Masoud Pezeshkian نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ موجودہ تنازع میں طاقت کے استعمال اور ہدفی کارروائیوں کا طریقہ بین الاقوامی تنازعات کی نوعیت کو تبدیل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض واقعات، جن میں اعلیٰ سطحی شخصیات کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا میں جنگ اور تنازع کے قوانین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو عالمی امن کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہے۔
ایرانی صدر نے براہِ راست Israel پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اقدامات خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں اور ایک منظم ریاستی پالیسی کے تحت ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جنہیں ان کے بقول “ریاستی دہشت گردی” سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس طرزِ عمل کو نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔
United States کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ بعض حالیہ کارروائیوں اور پالیسیوں میں امریکی مداخلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق طاقت کے استعمال پر مبنی یہ حکمت عملی تنازعات کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید گہرا کر رہی ہے، جس سے خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ایرانی صدر نے عالمی برادری کو متنبہ کیا کہ اگر اس بحران کے حوالے سے سنجیدہ اور متحد موقف اختیار نہ کیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔ ان کے بقول موجودہ کشیدگی ایک ایسی آگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو قابو سے باہر ہو کر متعدد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
