Benjamin Netanyahu نے جنوبی اسرائیل میں Dimona اور Arad پر ایران کے جوابی میزائل حملوں کے بعد صورتحال کو “انتہائی مشکل” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل دشمنوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ اسرائیل کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ہے، تاہم اس کے باوجود فوجی آپریشنز جاری رکھے جائیں گے کیونکہ یہ “مستقبل کی جنگ” ہے۔ ان کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حملوں کے بعد Israel کے جنوبی علاقوں میں ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی وزارتِ تعلیم نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اتوار اور پیر کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے اور طلبہ و اساتذہ کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کئی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئیں، جبکہ کم از کم 6 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Iran اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے، اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو خطہ ایک وسیع تر جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
