وزیراعظم شہبازشریف نے عالمی یوم آب کےموقع پر پیغام میں کہاپاکستانی کو آبی قلت کا چیلنج درپیش ہے،موسمی اور گلیشیئر نظام میں تبدیلی نے آبی قلت کے خطرات کو بڑھا دیا۔
وزیراعظم شہبازشریف نےکہاصاف پانی بنیادی انسانی حق ہے،آبی انتظام، فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی نمائندگی کویقینی بنانا اہم ہے، حکومت قومی آبی پالیسی کے دائرہ کار میں متعدد اہم اصلاحاتی اقدامات کررہی ہے،مستقبل کیلئےپانی کےوسائل کومحفوظ بنارہےہیں،ذخیرہ آب میں اضافے کیلئے 18 چھوٹے،درمیانے اور بڑےڈیمزکی تعمیر پر کام جاری ہے۔
وزیراعظم نےمزیدکہامؤثرنہری نظام سےپانی ضیاع میں 33فیصدکمی لانےکی کوشش کررہےہیں،پانی کے موثر استعمال میں30فیصداضافہ کررہےہیں،ارساآبی نظام میں شفافیت کویقینی بنانےکیلئےٹیلی میٹری نصب کر رہا ہے،ٹیلی میٹری سسٹم سےدریاؤں کےبہاؤکی بروقت نگرانی ممکن ہوگی،بین الصوبائی پانی کی تقسیم کےمسائل کےحل میں مددملےگی،پاکستان اپنےقومی آبی حقوق کی دلیرانہ اندازمیں حفاظت کیلئےپرعزم ہے،پاکستان کسی بھی نوعیت کی آبی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتاہے۔
صدرمملکت آصف زرداری نےاپنےپیغام میں کہاپانی کی کمی کا اثرسب پریکساں نہیں ہوتا،محفوظ پانی کی عدم دستیابی سے خواتین خصوصاً بچیاں زیادہ متاثرہوتی ہیں،کئی علاقوں میں گھروں کا انحصار دوردراز یا غیرمستحکم پانی کے ذرائع پر ہے، محفوظ اور قابل اعتماد پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بناناضروری ہے،پانی کےوسائل کابہترانتظام ضروری ہے،آبی نظام میں سرمایہ کاری،منصوبہ بندی میں خواتین کی شمولیت ناگزیرہے۔
صدر نےکہازیرزمین آبی ذخائربھرنے،پانی کی سطح بلند کرنے کیلئے اقدامات کرناہوں گے،آبانی میں اضافے، ماحولیاتی تبدیلی سےپانی پر دباؤ بڑھ رہاہے،ہمیں پانی کا استعمال زیادہ ذمہ داری سے کرناہوگا،بھارت کی جانب سےسندھ طاس معاہدےکی یکطرفہ معطلی کی شدیدمذمت کرتاہوں،مشترکہ آبی وسائل کو بطورہتھیار استعمال کرنا نہایت تشویشناک ہے،بھارتی اقدام عالمی معاہدےکی روح اورمتن دونوں کی خلاف ورزی ہے۔
صدرمملکت نےمزید کہابھارت کاطےشدہ طریقہ کارمیں رکاوٹ ڈالناعالمی معاہدےکی خلاف ورزی ہے، طاس معاہدہ دریائےسندھ کےنظام کی منصفانہ تقسیم کویقینی بناتارہاہے،ایسےاقدامات لاکھوں افراد کے روزگارکوبھی متاثرکرتےہیں،بھارت عالمی وعدےکےمطابق معاہدےپرمکمل عملدرآمدیقینی بنائے۔
