ایران اور اسرائیل میں شدید فضائی حملے، بن گوریون ایئرپورٹ خالی، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

Intense airstrikes in Iran and Israel, Ben Gurion Airport empty, tensions in the region have escalated to dangerous levels

Iran اور Israel کے درمیان جاری جنگ کے 24ویں روز صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں دونوں جانب سے ایک دوسرے کے اہم عسکری اور شہری اہداف پر فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے صوبے Sistan and Baluchestan Province کے علاقے کنرک میں بحریہ کے اسلحہ گوداموں اور اڈوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کم بلندی پر پرواز کرنے والے جنگی طیارے دیکھے گئے، جن کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ امریکی تھے، تاہم اس کی آزاد تصدیق نہیں ہو سکی۔

تہران کے مختلف علاقوں میں بھی دھماکوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک چیک پوسٹ پر حملے میں بسیج کے ایک رہنما محمد علی عطاریہ ہلاک ہوئے، جبکہ دارالحکومت کے جنوب مشرقی حصے میں بھی دھماکے سنے گئے۔

ادھر اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں تہران کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، جبکہ وزارتِ دفاع سے منسلک ایک الیکٹرانک صنعتی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے بعد آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔

شمالی شہر Tabriz میں ایک فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ شہر بھر میں جنگی طیاروں کی پروازیں دیکھی گئیں۔

دوسری جانب Ben Gurion Airport پر سائرن بجنے کے بعد حکام نے احتیاطی طور پر مسافروں کو ایئرپورٹ سے باہر نکال لیا۔ اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ کے مطابق تل ابیب، اشدود، عسقلان، یروشلم اور دیگر جنوبی و وسطی علاقوں میں بھی خطرے کے سائرن فعال کیے گئے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج نے تہران میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ امریکہ کی جانب سے بھی ایران کو آبنائے ہرمز سے متعلق سخت وارننگ دی گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق اس وقت صورتحال انتہائی غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر توانائی، تجارت اور سلامتی کے خدشات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے