ایران کا دوٹوک مؤقف: نقصانات کے ازالے اور ضمانتوں تک جنگ نہیں رکے گی، محسن رضائی

Iran's categorical stance: War will not stop until damages are compensated and guarantees are provided, Mohsen Rezaei

ایران کے اعلیٰ حلقوں کی جانب سے جنگ سے متعلق سخت مؤقف سامنے آیا ہے، جہاں آیت اللّٰہ Ali Khamenei کے مشیر Mohsen Rezaei نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے نقصانات کے مکمل ازالے تک جنگ روکنے کے لیے تیار نہیں۔

اپنے بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ ایران اس بات کو یقینی بنائے گا کہ نہ صرف اس پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں بلکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے حملے نہ ہونے کی عالمی ضمانت بھی حاصل کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار ایران سخت ردعمل دے گا اور “آنکھ کے بدلے سر” لینے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے امریکہ سے خطے سے انخلا کا مطالبہ بھی کیا۔

دوسری جانب Donald Trump نے ایک مختلف مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں کسی نہ کسی معاہدے کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل سے بھی اس حوالے سے بات چیت ہو چکی ہے اور وہ حالیہ پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب ایران کی سخت شرائط اور دوسری جانب امریکہ کی ممکنہ سفارتی پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ پس پردہ مذاکرات کے امکانات بھی موجود ہیں، تاہم کسی حتمی پیش رفت کے لیے دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی ایک بڑا چیلنج رہے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے