چین کے دو سابق وزرائے دفاع کو بدعنوانی پر معطل موت کی سزا

Former Defense Ministers Li Shangfu and Wei Fenghe

بیجنگ میں چین کی فوجی عدالت نے سابق وزرائے دفاع لی شانگفو اور وی فینگے کو بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات میں معطل موت کی سزا سنائی ہے۔ یہ حالیہ برسوں میں چین کی فوج میں جاری وسیع انسدادِ بدعنوانی مہم کے دوران سامنے آنے والے سخت ترین فیصلوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں سابق وزرائے دفاع کو دو سال کی مہلت کے ساتھ موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ چینی قانون کے مطابق اگر اس مدت کے دوران ان کا رویہ بہتر رہا تو سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا ہے کہ انہیں کسی قسم کی پیرول یا رہائی کی سہولت نہیں دی جائے گی۔

فیصلے کے مطابق دونوں افراد سے ان کے تمام سیاسی حقوق چھین لیے گئے ہیں جبکہ ان کی ذاتی جائیداد بھی ضبط کر لی گئی ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق لی شانگفو اور وی فینگے پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری ٹھیکوں، تقرریوں اور دفاعی خریداری کے معاملات میں رشوت وصول کی۔ ان پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے دوسروں کو غیر قانونی فائدے پہنچائے۔

لی شانگفو مختصر عرصے کے لیے 2023 میں وزیر دفاع رہے، جبکہ وی فینگے اس سے قبل پانچ سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اگرچہ چین میں وزیر دفاع کا منصب زیادہ تر رسمی سمجھا جاتا ہے، تاہم دونوں شخصیات فوجی بجٹ اور حساس دفاعی معاملات تک رسائی رکھتی تھیں۔

یہ فیصلے اس وسیع تر مہم کا حصہ ہیں جو چین کی قیادت نے فوج اور ریاستی اداروں میں بدعنوانی کے خلاف شروع کر رکھی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2022 کے بعد سے اب تک 100 سے زائد اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف کارروائی ہو چکی ہے یا انہیں عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مہم ایک طرف فوجی اداروں میں نظم و ضبط مضبوط کرنے کی کوشش ہے، لیکن دوسری طرف اس سے چین کی اعلیٰ فوجی قیادت میں غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بدعنوانی کے خلاف سخت مہم کو اپنی حکومتی پالیسی کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔ یہ تازہ سزائیں اسی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں، جن کا مقصد فوج اور ریاستی اداروں میں سخت کنٹرول اور احتساب کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے