ایران کو امریکہ کے 15 نکات موصول، جنگ بندی کے امکانات اور کشیدگی میں بیک وقت اضافہ

Iran receives 15 points from the US, possibilities of ceasefire and simultaneous increase in tension

ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کے حوالے سے 15 نکات تہران کو موصول ہوئے ہیں، جن کا جائزہ جاری ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق یہ نکات براہِ راست نہیں بلکہ ثالثوں کے ذریعے موصول ہوئے ہیں، اور ان پر غور کے بعد باضابطہ مؤقف جاری کیا جائے گا۔ اہلکار نے امریکی نشریاتی ادارے CBS News کو بتایا کہ فی الحال ایران ان تجاویز کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔

سفارتی رابطوں میں نرمی کے اشارے

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ “تعمیری بات چیت” کے بعد بعض فوجی اقدامات کو عارضی طور پر مؤخر کیا گیا ہے، جس سے کشیدگی میں وقتی کمی کے اشارے ملے ہیں۔

تہران میں حکومتی سطح پر بھی اس امر کی تصدیق سامنے آئی ہے کہ فریقین کے درمیان محدود رابطہ کاری ہوئی ہے، اگرچہ ایران ماضی میں ایسے کسی باضابطہ رابطے کی تردید کرتا رہا ہے۔

سفارتی پیش رفت کے ساتھ ہی خطے میں عسکری سرگرمیوں میں شدت بھی دیکھی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے “آپریشن وعدہ صادق 4” کی 79ویں لہر کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کارروائی میں Sejjil missile، Emad missile اور Kheibar Shekan missile استعمال کیے گئے اور مختلف اہداف بشمول تل ابیب، رامات گان، نیگیو اور بیرشیبہ کو نشانہ بنایا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 15 نکات پر مبنی امریکی تجویز اور بیک وقت جاری عسکری کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطے میں صورتحال “سفارت کاری اور تصادم” دونوں راستوں پر بیک وقت آگے بڑھ رہی ہے، جس سے مستقبل قریب میں فیصلہ کن موڑ کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے