امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا بعض اوقات “بموں کے ذریعے مذاکرات” کرتا ہے، جسے سفارتی اور عسکری حلقوں میں سخت اندازِ بیان قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب وائٹ ہاؤس ایونٹ کے اختتام پر Donald Trump سے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے متعلق سوال کیا گیا۔ اسی دوران Pete Hegseth نے یہ متنازع جملہ ادا کیا۔
اپنے بیان میں امریکی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا گیا کہ ایران جیسی “جدید فوجی طاقت” اتنی تیزی سے کمزور ہوئی ہو۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کے بیانات روایتی سفارت کاری کے برعکس سخت گیر عسکری پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
