Spain نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے امریکی فوجی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ہسپانوی وزیر دفاع Margarita Robles نے میڈرڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں شریک امریکی طیارے اسپین کی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اسپین کسی ایسے عسکری اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہو۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ Spain میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیے جائیں گے، جو اس پالیسی کا واضح تسلسل ہے کہ اسپین اس تنازع میں غیر جانبدار رہے گا۔
اس سے قبل ہسپانوی اخبار El País نے رپورٹ کیا تھا کہ اسپین اپنی فضائی حدود اور فوجی تنصیبات کو ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب اسپین کے وزیر معیشت Carlos Cuerpo نے مقامی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پہلے سے طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت اسپین اس جنگ میں شریک نہیں ہوگا جسے یکطرفہ اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف تصور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسپین کی حکومت پہلے ہی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اور انہیں غیرقانونی قرار دے چکی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ یورپی سطح پر ایک اہم سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
