حزب اللہ کے سینئر کمانڈر یوسف اسماعیل ہاشم بیروت میں ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں شہید ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق حملے میں مجموعی طور پر سات افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ تین گاڑیوں کو بیک وقت تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکے ہوئے اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی۔
رپورٹس کے مطابق یوسف ہاشم حزب اللہ کے ایک اہم عسکری رہنما تھے، جنہیں تنظیم میں تقریباً 40 سال کا تجربہ حاصل تھا اور وہ مختلف اسٹریٹیجک و خصوصی کمیٹیوں کے رکن رہے۔ انہوں نے 2024 میں علی کرکی کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد اہم ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
لبنانی سکیورٹی ذرائع اور حزب اللہ کے قریبی ذرائع کے مطابق حملے کے وقت یوسف ہاشم ایک خیمے میں جاری اہم اجلاس میں شریک تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ماضی میں وہ عراق میں حزب اللہ کے عسکری امور کے انچارج رہ چکے تھے۔
حزب اللہ نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں تنظیم کے ایک اور رکن محمد باقر نابلسی بھی جاں بحق ہوئے، جنہیں بیروت کے علاقے جناح میں نشانہ بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی یہ کارروائیاں جاری تنازع کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں، جو خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ ردعمل کا سبب بن سکتی ہیں۔
