کراچی کی سیشن عدالت نے سانحہ گل پلازہ کی تفتیشی رپورٹ مسترد کردی۔
تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی عاصم اسلم کے روبرو سانحہ گل پلازہ کے پولیس چالان اور ملزمان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے بعد عدالت نے سانحہ گل پلازہ کیس کی تفتیشی رپورٹ عدالت نے مسترد کرتے ہوئے تحریری حکم نامے میں لکھا کہ تفتیشی افسر نہ صرف سرکاری اداروں کی مجرمانہ غفلت کی تحقیقات میں ناکام رہا بلکہ اس نے گل پلازہ میں سیفٹی رولز کی خلاف ورزیوں کا تعین بھی نہیں کیا۔
عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسر نے زبانی بتایا کہ کمشنر رپورٹ پولیس فائل میں موجود نہیں، لیکن حیران کن طور پر وہ رپورٹ پولیس فائل کا حصہ تھی، 70 سے زائد قیمتی انسانی جانیں ممکنہ مجرمانہ غفلت سے ضائع ہوئیں، ذمہ داروں کا تعین ناگزیر ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھاکہ خود سرکاری وکیل نے پولیس چالان میں نقائص کی دوبار نشاندہی کی، دوبار چالان واپس کیا، پھر بھی تفتیشی افسر نے نقائص دور نہیں کیے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے کہا کہ عدالت پولیس کی تفتیش تسلیم کرنے کی پابند نہیں، کیس کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ اب ڈی ایس پی رینک کے افسر سے کسی کی تفتیش کرائی جائے جو ایس بی سی اے کی کارکردگی کا جائزہ لے اس کے ہوتے کیسے 1102 دکانیں 1153 دکانیں بن گئیں جبکہ سول ڈیفنس سے فائر سیفٹی انسپیکشن کا ریکارڈ بھی لیا جائے۔
