پاکستانی میوزک انڈسٹری کے دو بڑے نام میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان طویل عرصے سے جاری قانونی تنازع میں عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے علی ظفر کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔
سیشن کورٹ لاہور نے ہتکِ عزت کیس میں میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد گلوکارہ نے سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔
میشا شفیع نے فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر متعدد اسٹوریز شیئر کیں، جن میں خواتین کے بااختیار ہونے سے متعلق شاعری شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی آواز اٹھانے کو اپنی کامیابی سمجھتی ہیں۔
گلوکارہ کا کہنا تھا کہ وہ ایک صدمے سے گزری ہیں اور اب صحت یابی کے سفر کی جانب گامزن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے کام کے ذریعے خود کو سنبھالیں گی اور اپنی توجہ مثبت پہلوؤں پر مرکوز رکھیں گی۔
واضح رہے کہ یہ تنازع تقریباً آٹھ سال قبل اس وقت شروع ہوا تھا جب میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ واقعہ انہیں می ٹو مومنٹ کے تناظر میں سامنے لانا پڑا۔
دوسری جانب علی ظفر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائی اور متعدد سماعتوں کے بعد عدالت نے علی ظفر کے مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ ان کے حق میں سنا دیا۔
