پاکستان کے نامور فوک گلوکار شوکت علی کو مداحوں سے بچھڑے آج پانچ سال مکمل ہو گئے، تاہم ان کی آواز اور فن آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔
شوکت علی کا شمار اُن مایہ ناز فنکاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے پنجابی لوک گائیکی کو نئی شناخت دی۔ ان کے بغیر نہ صرف فوک موسیقی کی تاریخ ادھوری محسوس ہوتی ہے بلکہ پنجاب کی ثقافت کا تذکرہ بھی نامکمل رہتا ہے۔ ان کے گائے ہوئے گیتوں نے نئی نسل کو اپنے ماضی اور ثقافتی ورثے سے جوڑے رکھا۔
انہوں نے اپنے فن کے ذریعے ’’جگا‘‘ اور ’’دلا بھٹی‘‘ جیسے لوک کرداروں کو اس انداز میں پیش کیا کہ وہ سامعین کے ذہنوں میں زندہ جاوید ہو گئے۔ ان کی آواز میں ایک خاص درد اور تاثیر تھی، جو سننے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی تھی۔
شوکت علی کا تعلق ایک موسیقار گھرانے سے تھا اور وہ اندرون بھاٹی گیٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زندگی میں ہی انہیں موسیقی کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے اپنے بڑے بھائی سے باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ اسٹار ایک ڈرامے سے کیا اور بعد ازاں گائیکی کے میدان میں اپنی منفرد پہچان بنائی۔
انہوں نے فوک اور صوفیانہ کلام کے ساتھ ساتھ قومی جذبے سے بھرپور ملی نغمے بھی گائے، خصوصاً 1965 کی جنگ کے دوران ان کے گیتوں نے عوام اور فوج کے حوصلے بلند کیے۔ ان کے مشہور گانوں میں ’’میں پتر پاکستان دا‘‘ اور ’’ساتھیو مجاہدو جاگ اُٹھا ہے سارا وطن‘‘ شامل ہیں۔
شوکت علی نے پنجابی صوفی شاعر میاں محمد بخش کے شہرہ آفاق کلام ’’سیف الملوک‘‘ کو اپنی آواز میں گا کر بے پناہ شہرت حاصل کی، جو ان کی شناخت بن گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مرزا غالب، داغ دہلوی اور مومن خان مومن کا کلام بھی پیش کیا۔
اپنے طویل کیریئر کے دوران انہیں متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور پی ٹی وی ایوارڈ نمایاں ہیں۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
شوکت علی کو برصغیر میں فوک گائیکی کا "رانجھا” بھی کہا جاتا تھا، اور ان کا منفرد انداز آج بھی گلوکاروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی آواز آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی ورثہ رہے گی۔
