ایران نے ٹرمپ کا الٹی میٹم مسترد کر دیا، سخت ردعمل میں جوابی کارروائی کی صلاحیت کا دعویٰ

Iran calls for important regional meeting next week for peace and stability in Afghanistan

ایران نے امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmail Baghaei نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نہ صرف دفاعی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر جوابی حملے کرنے کی مکمل استعداد بھی رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سویلین انفرا اسٹرکچر اور بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دینے والے یہ سمجھ لیں کہ اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔

دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان Abraham Zolfaghari نے بھی امریکی صدر کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مشکلات کا شکار اور دباؤ میں گھرا ہوا فریق لفاظی اور میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے اپنی پوزیشن بہتر نہیں بنا سکتا۔ ان کے مطابق امریکی فوج اور پالیسی ساز اداروں کو ایران کے خلاف کسی بھی ناکام حکمت عملی کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محض بیانات اور نفسیاتی حربے ایران کے خلاف مبینہ شکست یا رسوائی کو چھپا نہیں سکتے، اور خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ سوشل میڈیا بیان میں ایران کو Strait of Hormuz کھولنے کی تنبیہ کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر ایران نے یہ اہم آبی راستہ بند رکھا تو شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ پاور پلانٹس اور پلوں سمیت بنیادی ڈھانچے پر بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے