اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین قومی وحدت، جمہوریت اور بنیادی حقوق کا ایک دائمی عہد ہے، جس نے ملک کو جمہوری روح، وفاقی توازن اور اتفاقِ رائے پر مبنی اجتماعی شناخت عطا کی۔
انہوں نے کہا کہ مشکل حالات ہوں یا ترقی کے مواقع، آئین ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتا ہے اور یہ ہمیں حقوق کے تحفظ، فرائض کے تعین اور وفاق کو مضبوطی سے جوڑنے کا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
چیئرمین پی پی پی نے قوم کو متفقہ آئین کا تحفہ دینے پر ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مدبرانہ قیادت اور سیاسی بصیرت نے مختلف آوازوں کو یکجا کر کے قوم کو پہلا متفقہ آئین دیا، جو آج بھی ہمارے جمہوری سفر کی بنیاد ہے۔
انہوں نے یومِ دستور کے موقع پر بینظیر بھٹو کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی آئین کی بحالی کے لیے جرات مندانہ جدوجہد نے آمریت کے ادوار میں جمہوریت کی شمع روشن رکھی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 1973 کے آئین کی روح کو مسلسل جمہوری جدوجہد کے ذریعے بحال اور مستحکم کیا گیا، جبکہ آصف علی زرداری کے پہلے دورِ صدارت میں ہونے والی تاریخی 18ویں آئینی ترمیم نے پارلیمانی بالادستی اور آئینی توازن کو بحال کیا
