اگر آنے والے گھنٹوں میں Pakistan کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو United States اور Iran کے درمیان سنہ 1979 کے بعد پہلی بار اعلیٰ سطح پر براہِ راست ملاقات متوقع ہے۔
امریکی وفد کی قیادت JD Vance جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی Mohammad Bagher Ghalibaf کر رہے ہیں، اور یہ ملاقات Islamabad میں متوقع ہے۔
تاریخی پس منظر: 1979 کا انقلاب اور کشیدہ تعلقات
Iranian Revolution کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔ اسی دوران Iran Hostage Crisis نے تعلقات کو مکمل طور پر منقطع کر دیا، جب تہران میں امریکی سفارت خانے کے 52 اہلکاروں کو 444 دن تک یرغمال بنایا گیا۔
اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے تقریباً ختم ہو گئے اور رابطہ زیادہ تر بالواسطہ ذرائع، جیسے Oman اور Switzerland کے ذریعے ہوتا رہا۔
2015 جوہری معاہدہ: ایک اہم سنگ میل
سنہ 2015 میں John Kerry اور Mohammad Javad Zarif کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں Joint Comprehensive Plan of Action (JCPOA) طے پایا، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی دی گئی۔
تاہم Donald Trump نے 2018 میں اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی، جس کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔
محدود رابطے اور بڑھتا عدم اعتماد
اعلیٰ سطح پر آخری نمایاں رابطہ 2013 میں ہوا تھا جب Barack Obama نے Hassan Rouhani سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔
اس کے بعد رابطے زیادہ تر بالواسطہ رہے، جن میں حالیہ برسوں میں Steve Witkoff اور Abbas Araghchi کے درمیان عمان کی ثالثی میں مذاکرات شامل ہیں۔
موجودہ تناظر: جنگ اور سفارتکاری
حالیہ ایران-امریکا کشیدگی اور خطے میں ہونے والی جنگی کارروائیوں نے دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایران بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حالیہ جنگی دباؤ نے ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ علاقائی ممالک، خصوصاً Pakistan کی سفارتی کوششوں کے باعث بات چیت پر آمادہ ہوا ہے۔
