ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مجوزہ مذاکرات سے قبل واضح کیا ہے کہ ایران خیر سگالی کے جذبے کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم امریکہ پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات سے پہلے Lebanon میں جنگ بندی یقینی بنائی جائے اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کی جائے، کیونکہ یہ وہ نکات ہیں جن پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا لیکن تاحال ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
قالیباف کے مطابق اگر امریکا ایک “حقیقی اور قابلِ عمل معاہدہ” پیش کرتا ہے اور ایران کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرتا ہے تو Iran معاہدے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب Abbas Araghchi نے بھی اسی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اپنے وعدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، خاص طور پر لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں اور عالمی برادری ان بات چیت کو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم موقع قرار دے رہی ہے۔
