آبنائے ہرمز کے معاملے پر عالمی کشیدگی کے درمیان چین نے ایران کے مؤقف کی کھل کر حمایت کر دی ہے، جس سے خطے کی سفارتی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
چینی وزیرِ دفاع ڈونگ جن نے کہا ہے کہ چین کے بحری جہاز معمول کے مطابق آبنائے ہرمز کے آر پار سفر کر رہے ہیں، اور ایران کے ساتھ تجارتی و توانائی معاہدوں کا احترام کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایک اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی مداخلت یا دباؤ خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں بیرونی قوتوں کو غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
چینی وزیرِ دفاع کے مطابق چین عالمی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہا ہے تاکہ کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ترجمان نے زور دیا کہ اہم بین الاقوامی آبی راستوں کو محفوظ، مستحکم اور بلا رکاوٹ رکھنا پوری عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین توانائی کی محفوظ ترسیل اور عالمی سپلائی چین کے استحکام کے لیے تمام فریقین کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
