روم — اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث دفاعی معاہدے کی تجدید نہیں کی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اطالوی وزیر اعظم نے واضح کیا کہ اٹلی اور اسرائیل کے درمیان عسکری تعاون کا معاہدہ، جس کی تجدید قریب تھی، اب مؤخر کر دی گئی ہے اور حکومت نے اس کی خودکار تجدید منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ 2016 میں طے پایا تھا جس میں فوجی سازوسامان، دفاعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون شامل تھا، اور اسے ہر پانچ سال بعد تجدید کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ اہم فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اسرائیلی کارروائیوں پر بین الاقوامی سطح پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے حالیہ دورہ لبنان کے دوران اسرائیلی بمباری کو، جس میں شہری متاثر ہوئے، “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیا تھا۔
اطالوی حکومت کے اس اقدام کو ماہرین خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی حرکیات اور یورپی ممالک کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف اٹلی اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے بلکہ یورپی یونین کی مجموعی پالیسی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
