پاکستان نے ایران اور امریکا مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اسلام آباد میں کرانے کی تجویز دے دی

پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم سفارتی پیش رفت کرتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے، جسے خطے میں امن کے قیام کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو پاکستانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے قبل فریقین کو دارالحکومت Islamabad میں مذاکرات کے انعقاد کی تجویز دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ ممکنہ طور پر جمعرات کو ہو سکتا ہے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کسی جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی چینلز فعال ہیں اور دونوں جانب سے بات چیت جاری رکھنے میں دلچسپی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump کے ممکنہ دورہ پاکستان کی قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ ریپبلکن رہنما Sajid Tarar کے مطابق واشنگٹن میں اس حوالے سے چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں، جو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام جنگ بندی کی معیاد ختم ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ ایک اور اعلیٰ سطحی ملاقات پر غور کر رہے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیش رفت جاری ہے اور اگر آئندہ دنوں میں ایران اور علاقائی ثالثوں کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو یہ عمل جاری رکھا جائے گا۔

تاہم امریکی میڈیا کے مطابق مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ممکنہ ملاقات کے بارے میں حتمی صورتحال ابھی واضح نہیں۔ اس کے باوجود سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات مضبوط ہیں، اور زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ مذاکرات پاکستان میں ہی منعقد ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق ایران کا پاکستان پر اعتماد ایک اہم عنصر ہے، جس کی وجہ سے تہران کسی تیسرے ملک کے بجائے اسلام آباد کو ترجیح دے سکتا ہے۔

یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی برادری کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی حل پر زور دے رہی ہے، ایسے میں پاکستان کا کردار ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے