گرین لینڈ میں حکومت نے اہم سیاسی تبدیلی کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم Múte Bourup Egede کو ملک کا نیا وزیر خارجہ مقرر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان موجودہ وزیر اعظم Jens-Frederik Nielsen کی جانب سے کیا گیا۔
کوپن ہیگن سے موصولہ رپورٹس کے مطابق حکومت نے میوٹ ایجیڈے کو یہ ذمہ داری ایسے وقت میں سونپی ہے جب گرین لینڈ اور امریکا کے درمیان تعلقات حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہیں نہ صرف خارجہ امور بلکہ معدنی وسائل اور کاروباری پالیسیوں کا اضافی قلمدان بھی دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس تقرری کا بنیادی مقصد امریکا کے ساتھ تعلقات کو ازسرنو منظم کرنا اور جاری سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے گرین لینڈ پر اسٹریٹجک کنٹرول سے متعلق بیانات نے یورپی اتحادیوں میں تشویش پیدا کر رکھی ہے۔
ڈنمارک کی بادشاہت کا حصہ ہونے کے باوجود گرین لینڈ اپنی خودمختار داخلی حکومت رکھتا ہے، اور اس کی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ جزیرہ کسی صورت فروخت کے لیے نہیں ہے۔ میوٹ ایجیڈے نے اپنے سابقہ دورِ حکومت میں بھی یہ مؤقف اپنایا تھا کہ گرین لینڈ کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔
یاد رہے کہ جنوری کے آخر میں گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکا کے درمیان سفارتی سطح پر ابتدائی مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جو تاحال جاری ہیں۔ نئی تقرری کو ان مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں سیاسی اور اقتصادی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔
