واشنگٹن: امریکی وزارتِ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیوں میں دی گئی عارضی نرمی کو مزید توسیع نہیں دی جائے گی، جس کے نتیجے میں سمندر میں موجود ایرانی تیل کی فروخت کے لیے دی گئی محدود اجازت 19 اپریل کو ختم ہو جائے گی۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایران پر زیادہ سے زیادہ اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس عارضی اجازت نامے کے تحت ایران کو مخصوص حالات میں سمندر میں موجود تیل فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اب اس سہولت کو ختم کیا جا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا ان غیر ملکی مالیاتی اداروں کے خلاف بھی کارروائی کے لیے تیار ہے جو ایران کی معاشی سرگرمیوں یا تیل کی تجارت میں کسی بھی شکل میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایران کی مالی صلاحیت کو محدود کرنا اور اسے بین الاقوامی دباؤ کے تحت لانا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششیں کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ ماہرین کے مطابق پابندیوں میں سختی سے عالمی تیل منڈی، علاقائی سیاست اور جاری مذاکرات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
