امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جو ممالک ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھیں گے انہیں بھی سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ واشنگٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ چین ممکنہ طور پر ایران سے تیل کی درآمد عارضی طور پر روک سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ Scott Bessent نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے مختلف ممالک کو متنبہ کر دیا ہے کہ اگر وہ ایران کا تیل خریدتے رہے یا ان کے بینکوں کے ذریعے ایرانی رقوم کی ترسیل جاری رہی تو ان پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے خلاف سمندری ناکہ بندی کا آغاز پیر کے روز کیا گیا، جبکہ جاری کشیدگی ساتویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں چین ایران کی تیل برآمدات کا 80 فیصد سے زائد خریدتا رہا ہے، تاہم حالیہ ناکہ بندی کے بعد توقع ہے کہ چینی خریدار وقتی طور پر ایرانی تیل کی خریداری روک دیں گے۔ اس ضمن میں امریکی محکمہ خزانہ نے چین کے دو بینکوں کو باضابطہ خطوط بھی جاری کیے ہیں، جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ان کے ذریعے ایرانی مالی لین دین ثابت ہوا تو ان پر بھی پابندیاں لگائی جائیں گی۔
