ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بڑے کھیلوں کے ممالک میں بھارت ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزیوں میں سرِ فہرست ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
واڈا کے صدر ویٹولڈ بانکا کے مطابق بھارت میں کارکردگی بڑھانے والی ادویات اور اسٹیرائیڈز کی دستیابی انتہائی آسان ہے، جو کھیلوں کے نظام میں ایک سنجیدہ خامی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال نہ صرف کھیلوں کی ساکھ کے لیے خطرہ ہے بلکہ بھارت کے مستقبل کے عالمی کھیلوں کے منصوبوں کے لیے بھی ایک “ریڈ فلیگ” ہے۔
بانکا نے اس بات پر زور دیا کہ ڈوپنگ نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن اور ٹیسٹنگ کے عمل کو مزید سخت اور وسیع کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں مثبت رہی ہیں، تاہم عملی اقدامات کی رفتار تیز کرنا ضروری ہے۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت 2030 کے کامن ویلتھ گیمز 2030 اور 2036 کے اولمپکس 2036 کی میزبانی حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈوپنگ سے متعلق خدشات ان بولیوں (bids) پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
دوسری جانب واڈا نے خطے میں ڈوپنگ کے خلاف اقدامات کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو سخت نگرانی، بہتر قوانین اور شفاف ٹیسٹنگ نظام اپنانے کی ہدایت کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے اس مسئلے پر فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے تو نہ صرف اس کی کھیلوں کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ عالمی ایونٹس کی میزبانی کے امکانات بھی کمزور پڑ سکتے ہیں۔
