برطانوی حکومت نے اسلام مخالف سوشل میڈیا شخصیت ویلنٹینا گومیز کا داخلہ روک دیا

برطانوی حکومت نے اسلام مخالف سوشل میڈیا شخصیت ویلنٹینا گومیز کا داخلہ روک دیا

برطانوی حکومت نے ایک اہم اور متنازع اقدام کے تحت امریکا میں مقیم اسلام مخالف سوشل میڈیا شخصیت Valentina Gomez کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ گومیز کو آئندہ ماہ London میں ہونے والی ایک دائیں بازو کی ریلی میں شرکت کرنا تھی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیرِ داخلہ نے ان کا الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے منسوخ کر دیا کہ ان کی موجودگی "عوامی مفاد کے لیے موزوں نہیں” ہو گی۔ مذکورہ ریلی 16 مئی کو متوقع تھی، جس کا اہتمام دائیں بازو کے سرگرم کارکن Tommy Robinson کر رہے ہیں۔

گومیز ماضی میں بھی اسی نوعیت کے اجتماعات میں شرکت کر چکی ہیں جہاں ان پر مسلمانوں کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز بیانات دینے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے، جس کے باعث ان کی شرکت کو حساس قرار دیا جا رہا تھا۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ آزادیٔ اظہار ایک بنیادی جمہوری حق ہے، تاہم نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسندانہ نظریات کی ترویج اس آزادی کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔ حکومت کے مطابق یہ فیصلہ معاشرتی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔دوسری جانب کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات آزادیٔ اظہار پر قدغن کے مترادف ہیں اور حکومت کو متنازع خیالات کے باوجود افراد کو اپنی رائے پیش کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے فیصلے سیاسی بنیادوں پر اختلافی آوازوں کو دبانے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ برطانیہ اس سے قبل بھی متنازع بیانات دینے والی متعدد شخصیات کے داخلے پر پابندی عائد کر چکا ہے، جبکہ حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی آئی ہے کہ قومی سلامتی اور سماجی استحکام کو ترجیح دی جائے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے