ایران نے خلیج عمان میں اپنے تجارتی جہاز کی مبینہ ضبطی اور عملے کو حراست میں لینے کے واقعے پر امریکا کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسے تہران نے “غیر قانونی اور وحشیانہ کارروائی” قرار دیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس واقعے کے دوران نہ صرف جہاز کو قبضے میں لیا گیا بلکہ عملے اور ان کے اہل خانہ کو بھی دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل António Guterres اور عالمی بحری تنظیم فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں اور جہاز و عملے کی فوری رہائی یقینی بنائیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا سکتی ہیں اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ تہران کے مطابق امریکا کو اس صورتحال کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
ایران نے اس اقدام کو “سمندری قزاقی اور دہشت گردی” سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے، اور اگر صورتحال کو نہ روکا گیا تو اس کے اثرات عالمی تجارت اور بحری سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
