لبنان نے خطے کی بدلتی صورتحال میں ایک اہم اور واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا راستہ اب ایران سے الگ ہو چکا ہے، جبکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے اسرائیلی افواج کا لبنانی سرزمین سے انخلا ناگزیر ہے۔
لبنان کے وزیرِ اطلاعات پال مورکوس نے بتایا کہ حالیہ تین ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع لبنانی حکومت کی درخواست پر کی گئی، جس کا بنیادی مقصد لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا تھا۔ ان کے مطابق حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات پر تیار ہے، جن میں فوج کی تعیناتی بھی شامل ہے، تاہم یہ تمام اقدامات اسی صورت ممکن ہوں گے جب اسرائیلی افواج لبنان سے مکمل طور پر نکل جائیں۔
پال مورکوس نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا ہوگا۔
دوسری جانب لبنان کے وزیرِ خارجہ یوسف راجی نے ایک اہم بیان میں کہا کہ اگر مقصد جنگ کا خاتمہ اور مقبوضہ علاقوں کی واپسی ہو تو اسرائیل سے مذاکرات کرنے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے سے تعبیر کرنا درست نہیں بلکہ یہ قومی مفاد کے تحفظ کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان ایک خودمختار ریاست ہے، جو نہ کسی بیرونی طاقت کے زیرِ اثر ہے اور نہ ہی کسی علاقائی محور کا حصہ بننا چاہتا ہے۔
