نئی دہلی — بھارت میں مبینہ “پہلگام فالس فلیگ آپریشن” سے متعلق سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں سکھ رہنما Gopal Singh نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے پاس پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اپنے بیان میں گوپال سنگھ نے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر خطرات موجود تھے تو انہیں بروقت کیوں ناکام نہیں بنایا جا سکا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے کو پاکستان کے خلاف بیانیہ مضبوط کرنے اور ممکنہ طور پر کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم اس مؤقف کو انہوں نے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
دوسری جانب بھارتی پارلیمنٹ کے رکن Charanjit Singh Channi نے بھی پہلگام واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے حساس واقعات پر شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ سچ سامنے آ سکے۔
ادھر اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر Mallikarjun Kharge نے ایک اور اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم Narendra Modi نے مبینہ حملے سے تین روز قبل جموں و کشمیر کا طے شدہ دورہ خفیہ سیکیورٹی اطلاعات کی بنیاد پر منسوخ کیا تھا، جس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔
بھارتی حکومت کی جانب سے تاحال ان الزامات پر باضابطہ اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ ملک کے اندر سیاسی بحث کا اہم موضوع بن چکا ہے، جہاں اپوزیشن شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ حکومت پر دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
