جعلی لائسنس کے ساتھ 17 سال تک پروازیں اڑانے والا سابق کینیڈین ایئرلائن کپتان گرفتار

کینیڈا میں قومی فضائی کمپنی کے ایک سابق کپتان پائلٹ کو تقریباً 17 سال تک مطلوبہ اعلیٰ درجے کے پائلٹ لائسنس کے بغیر سینکڑوں پروازیں اڑانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے بعد ملکی فضائی تحفظ اور لائسنسنگ نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پیل ریجنل پولیس کے مطابق 59 سالہ جیوفری وال کے خلاف چار ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد فراڈ، جعلی دستاویزات کے استعمال اور حکام کو گمراہ کرنے سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے 2009 سے 2025 تک جعلی یا غلط طور پر پیش کی گئی اسناد کے ذریعے 900 سے زائد ملکی اور بین الاقوامی پروازیں اڑائیں۔ تحقیقات کے مطابق ان کے پاس کمرشل پائلٹ لائسنس تو موجود تھا، تاہم وہ اس لازمی اور اعلیٰ ترین سرٹیفکیشن یعنی ایئر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس (ATPL) کے حامل نہیں تھے جو تجارتی مسافر طیاروں کے کپتان کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزم نے اپنی پیشہ ورانہ قابلیت اور لائسنسنگ ریکارڈ کے حوالے سے فضائی کمپنی اور شہری ہوا بازی کے اداروں کو دھوکا دیا۔ اسی بنیاد پر ان کے خلاف فراڈ اور جعلی دستاویزات کے استعمال کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

پیل پولیس کے سربراہ نیشان دورائی اپاہ نے کہا کہ اگر عدالت میں الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ معاملہ عوامی اعتماد اور فضائی تحفظ کے لیے انتہائی تشویش ناک ثابت ہوگا، کیونکہ لاکھوں مسافروں نے ان پروازوں میں سفر کیا جن کی کمان ملزم کے ہاتھ میں تھی۔

دوسری جانب متعلقہ فضائی کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے کے باوجود مسافروں کی سلامتی کبھی خطرے میں نہیں پڑی۔ کمپنی کے مطابق تمام پائلٹس ہر چھ ماہ بعد لازمی تربیت اور سالانہ عملی جانچ کے مراحل سے گزرتے ہیں، جبکہ جیوفری وال نے اپنی ملازمت کے دوران تمام عملی اور فنی امتحانات کامیابی سے مکمل کیے تھے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ جیسے ہی معاملہ سامنے آیا، پائلٹ کو فوری طور پر ڈیوٹی سے ہٹا کر متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیا گیا۔ بعد ازاں کیے گئے جامع آڈٹ میں کسی دوسرے پائلٹ کے خلاف لائسنسنگ قوانین کی خلاف ورزی سامنے نہیں آئی۔

فضائی تحفظ کے ماہر اور امریکی ایوی ایشن سیفٹی تنظیم کے سربراہ حسن شاہدی نے اس واقعے کو "انتہائی نایاب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک شخص اتنے طویل عرصے تک جعلی یا نامکمل اسناد کے ساتھ جانچ کے نظام سے کیسے بچتا رہا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے