ایران کی خلیجی ممالک کو وارننگ، امریکا یا اسرائیل کو سہولت دینا دشمنی تصور ہوگا

ایران کا یورپ کو انتباہ: جنگ میں شمولیت کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا

ایران کی وزارت خارجہ نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو امریکا یا اسرائیل کی کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں، بصورت دیگر تہران ایسی معاونت کو دشمنانہ اقدام تصور کرے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کی حالیہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے واقعے کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔

وزارت خارجہ کے مطابق ایران کی مسلح افواج نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں اپنے دفاع کے جائز حق کا استعمال کیا اور خطے میں موجود بعض امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ تہران نے واضح کیا کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کا جواب دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو تنازع کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور تمام پڑوسی ممالک کو کشیدگی میں اضافے کے بجائے امن، استحکام اور سفارتی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔

ایران نے اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ امریکی حملوں کے معاملے پر واشنگٹن کو جوابدہ ٹھہرائے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے