واشنگٹن — امریکا میں ریپبلکن قانون سازوں کے ایک گروپ نے غیر ملکی ہنرمند کارکنوں کے ویزا پروگرام کو عارضی طور پر معطل کرنے کے لیے ایک نیا بل پیش کر دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد مقامی شہریوں کو روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ قانون کے تحت معروف H-1B visa program کو تین سال کے لیے معطل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سالانہ جاری کیے جانے والے ویزوں کی تعداد 65 ہزار سے کم کر کے 25 ہزار کرنے اور موجودہ قرعہ اندازی (لاٹری) نظام ختم کر کے تنخواہ کی بنیاد پر امیدواروں کے انتخاب کی سفارش بھی شامل ہے۔
بل میں مزید کہا گیا ہے کہ ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کے لیے کم از کم سالانہ تنخواہ 2 لاکھ ڈالر مقرر کی جائے، جبکہ کمپنیوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انہیں مطلوبہ مہارت کا حامل مقامی امریکی کارکن دستیاب نہیں تھا۔ مزید یہ کہ اگر کسی کمپنی نے حالیہ عرصے میں ملازمین کو فارغ کیا ہو تو وہ غیر ملکی بھرتی نہیں کر سکے گی۔
مجوزہ قانون کے مطابق غیر ملکی کارکن ایک سے زائد ملازمتیں نہیں کر سکیں گے، تیسرے فریق کے ذریعے بھرتیوں پر پابندی ہوگی، اور ایسے کارکن اپنے اہلِ خانہ کو امریکا لانے کے بھی اہل نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ تربیتی پروگرام ختم کرنے اور مستقل رہائش (گرین کارڈ) کی طرف جانے کا راستہ بھی محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل کے حامی ارکان کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام کا غلط استعمال ہو رہا تھا اور اس سے امریکی کارکنوں کے مواقع متاثر ہو رہے تھے۔ تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ اقدام خاص طور پر ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور سائنسی شعبوں میں مہارت کی کمی پیدا کر سکتا ہے، جس سے امریکی معیشت اور عالمی مسابقت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یہ بل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اسے قانون بننے کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظوری اور صدر کے دستخط درکار ہوں گے، تاہم اس نے پہلے ہی امریکا میں امیگریشن اور لیبر پالیسی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
