ایرانی وزیر خارجہ کے دورۂ پاکستان میں جوہری معاملہ زیرِ بحث نہیں آئے گا، ابراہیم عزیزی

Ebrahim Azizi, head of Iran's National Security Council

اسلام آباد — ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وزیر خارجہ Abbas Araghchi کے دورۂ پاکستان کے دوران جوہری پروگرام سے متعلق کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی، جس سے اس دورے کی ترجیحات مزید واضح ہو گئی ہیں۔

ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ Ebrahim Azizi نے اپنے بیان میں کہا کہ جوہری معاملہ ایران کی “ریڈ لائن” ہے اور اس پر کسی بھی سطح پر بات چیت نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق عباس عراقچی کا دورہ مکمل طور پر دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون پر مرکوز ہوگا۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmail Baghaei نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے کے دوران ایران اور United States کے حکام کے درمیان کسی بھی قسم کی ملاقات طے نہیں ہے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق وہ خود بھی ایرانی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور دورے کا مقصد پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں ایران-امریکا کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ایران کی جانب سے جوہری معاملے کو واضح طور پر الگ رکھنے کا اشارہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اس دورے کو خالصتاً دوطرفہ اور علاقائی سفارتکاری تک محدود رکھنا چاہتا ہے، جبکہ حساس عالمی معاملات کو کسی دوسرے فورم پر زیر بحث لانے کی پالیسی پر قائم ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے