ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی پالیسی کو مزید سخت اور منظم شکل دینے کے لیے ایک نئے “آبنائے ہرمز مینجمنٹ پلان” پر کام تیز کر دیا ہے، جس کے تحت اس اہم عالمی آبی گزرگاہ میں گزرنے والے جہازوں کے لیے نئے قواعد و ضوابط، فیسوں اور ممکنہ پابندیوں کا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
مجوزہ قانون میں اہم تبدیلیاں
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے مطابق مجوزہ منصوبے میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، نگرانی اور انتظامی امور مکمل طور پر مسلح افواج کے تحت لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عملی طور پر یہ کنٹرول پہلے ہی موجود ہے، تاہم اب اسے باقاعدہ قانونی حیثیت دی جائے گی۔
کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کے مطابق ایران بعض “دشمن ممالک” سے منسلک جہازوں کے گزرنے پر پابندیاں عائد کرنے کا اختیار بھی محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
جہازوں سے فیس یا ٹول ٹیکس لینے کی تجویز
نئے منصوبے کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے مختلف سروسز کے بدلے فیس وصول کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ اس میں شپنگ کمپنیوں سے سیکیورٹی، رہنمائی یا دیگر خدمات کے عوض چارجز شامل ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ فیس براہِ راست “ٹول ٹیکس” کے بجائے سروس چارج کے طور پر پیش کی جائے گی تاکہ اسے بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں زیادہ قابلِ قبول بنایا جا سکے۔
عمان کے ساتھ مشاورت اور بین الاقوامی پہلو
چونکہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے کی نگرانی عمان کے پاس ہے، اس لیے ایران اس منصوبے میں مسقط کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ کسی بھی نئے انتظامی نظام کو بین الاقوامی میری ٹائم اداروں کی حمایت بھی حاصل ہو۔
ایران کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات یکطرفہ نہیں بلکہ سیکیورٹی اور دفاعی ضرورت کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
