ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سہہ ملکی دورے کے سلسلے میں پاکستان اور عمان کے بعد روس پہنچ گئے، جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
روسی سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں بالخصوص آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں اور بحری دباؤ کے اثرات زیر غور آئے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں سفارتی رابطوں اور اسٹریٹیجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
صدر پیوٹن نے ایران کے ساتھ مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ روس ہر ممکن اقدام کرے گا جو نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہو تاکہ جلد از جلد استحکام اور امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایرانی عوام اپنی خودمختاری اور استقامت کے ذریعے موجودہ چیلنجز سے کامیابی سے نمٹ لیں گے۔
اس موقع پر عباس عراقچی نے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس کے تعلقات پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، تاہم حالیہ حالات میں ان میں مزید گہرائی آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے عالمی سطح پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں روس جیسے اتحادی کا ساتھ ایران کے لیے انتہائی اہم ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری مستقبل میں مزید مستحکم ہوگی۔ ملاقات کے دوران صدر پیوٹن نے ایرانی قیادت کی جانب سے موصول ہونے والے پیغام کا بھی ذکر کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
