نیوزی لینڈ کا ہنرمند غیرملکیوں کے لیے “اسکلڈ مائیگرنٹ ریزیڈنٹ ویزا” متعارف

New Zealand introduces “Skilled Migrant Resident Visa” for skilled foreigners

نیوزی لینڈ نے ہنرمند غیرملکی افراد کو اپنی جانب متوجہ کرنے اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے “اسکلڈ مائیگرنٹ ریزیڈنٹ ویزا” متعارف کرا دیا ہے، جسے مستقل رہائش کے خواہشمند افراد کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق اس ویزا کے تحت اہل درخواست گزار نہ صرف طویل المدت رہائش اختیار کر سکیں گے بلکہ ملازمت، تعلیم اور دیگر سماجی سہولیات سے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ یہ اقدام خاص طور پر ان شعبوں کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے جہاں ہنرمند افرادی قوت کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔

ویزے کے حصول کے لیے متعدد شرائط رکھی گئی ہیں جن میں عمر کی حد، انگریزی زبان پر مناسب عبور، صحت کی تسلی بخش حالت اور کسی مجاز آجر کی جانب سے ملازمت کی پیشکش شامل ہے۔ اس کے علاوہ درخواست دہندگان کو پوائنٹس بیسڈ سسٹم کے تحت کم از کم 6 اسکلڈ پوائنٹس حاصل کرنا لازمی ہوگا، جس کی بنیاد ان کی تعلیم، تجربے اور پیشہ ورانہ مہارت پر رکھی گئی ہے۔

اس پروگرام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ کامیاب درخواست گزار اپنے شریکِ حیات اور 24 سال تک کے زیر کفالت بچوں کو بھی اپنے ساتھ نیوزی لینڈ لا سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر دو سال کی رہائش کے بعد مستقل رہائشی حیثیت (Permanent Residency) حاصل کرنے کا امکان موجود ہوگا، جس کے بعد ملک میں آزادانہ آمد و رفت اور طویل مدتی قیام ممکن ہو جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ ویزا پالیسی نہ صرف نیوزی لینڈ کی معیشت کو تقویت دے گی بلکہ عالمی سطح پر ہنرمند افراد کے لیے ایک پرکشش موقع بھی فراہم کرے گی، خصوصاً ان افراد کے لیے جو بہتر معیارِ زندگی اور مستحکم مستقبل کے خواہاں ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے